Saturday, February 26, 2022

Balance Foreign Policy

 وزیراعظم کا حالیہ دورہ روس ایک متوازن(برابر) خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے. سامراجی طاقت سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو روس ہمارے خطے کا(جغرافیائی قربت کے لحاظ سے) سب سے بڑا اور طاقتور ملک ہونے کیساتھ ساتھ  قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے. مغربی یورپ جو امریکہ کے اتحادی ہیں یا با الفاظ دیگر نیٹو ممالک، وہ بھی اپنی توانائی کی ضروریات روس سے پوری کرتے ہیں. اسی طرح جرمنی اور فرانس جو نیٹو ممالک کے علاوہ امریکی کیمپ کے قریبی ممالک ہیں حال ہی میں رونما ہونے والے روس یوکرائن کشیدگی سے قبل روس کا دورہ کر چکے ہیں. ایکسپریس اخبار کے کالم نگاروں کے مطابق مغربی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لئے روس پر انحصار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکی اتحادی ممالک میں روس سے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے. اس کے علاوہ بہت سے یورپی ممالک کے روس کیساتھ مضبوط معاشی اور تجارتی تعلقات ہیں. اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر ملک کے جغرافیائی، معاشی اور تجارتی مفادات ہوتیں ہیں جن کے حصول کیلئے وہ خطے میں موجود ہونے والے ممالک کیساتھ محض امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اپنے مفادات کو پس پشت نہیں ڈالتے. لہزا اس دورے کو تنقید کا نشانہ بنانے والے یہ بھی تو دیکھیں کہ ماضی میں ہمارے حکمران چاہے وہ فوجی آمر ہو یا سیاسی جماعت کے سربراہ، نے مغرب پسند پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک کو خاطر خواہ نقصان پہنچایا. لہزا روس اور پاکستان اس وقت قریب آرہے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم کا یہ اقدام جرات مندانہ ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود انہوں نے روس کا دورہ کیا. ہمیں ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے جس میں توازون ہو نہ کہ صرف اپنے فائدے اور مفادات کے لئے مغرب پرستی کرنا. اس کے کیا نتائج ہونگے یہ آنے والا وقت بتائے گا.

تحریر مصطفیٰ حسین طوری

Share: